সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مقدمہ دارمی

হাদীস নং: ৫২২
مقدمہ دارمی
جو شخص شہرت اور پہچان کو ناپسند قرار دے۔
سلیم بن حنظلہ بیان کرتے ہیں ہم حضرت ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوتے تاکہ ان سے کچھ گفتگو کریں جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم ان کے پیچھے چلنے لگے حضرت عمر نے ہمیں دیکھ لیا وہ ان کے پیچھے آئے اور حضرت عمر نے انھیں درہ سے مارا۔ حضرت ابی نے بازو وؤ کے ذریعے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے دریافت کیا اے امیرالمومنین آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ حضرت عمر نے جواب دیا کیا تم نے غور نہیں کیا (تمہاری یہ حرکت) پیشوا کے لیے آزمائش ہے اور پیروی کرنے والوں کے لیے ذلت ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ هَارُونَ بْنَ عَنْتَرَةَ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ أَتَيْنَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ لِنَتَحَدَّثَ إِلَيْهِ فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا وَنَحْنُ نَمْشِي خَلْفَهُ فَرَهَقَنَا عُمَرُ فَتَبِعَهُ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ قَالَ فَاتَّقَاهُ بِذِرَاعَيْهِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا نَصْنَعُ قَالَ أَوَ مَا تَرَى فِتْنَةً لِلْمَتْبُوعِ مَذَلَّةً لِلتَّابِعِ
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান