সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مقدمہ دارمی
হাদীস নং: ৩৮৩
مقدمہ دارمی
جو شخص غیر اللہ کے لیے علم حاصل کرے اس کی توبیخ۔
حضرت شہر بن حوشب فرماتے ہیں مجھے یہ پتا چلا ہے کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے یہ کہا تھا اے میرے بیٹے علم اس لیے حاصل نہ کرنا تاکہ اس کے ذریعے علماء کے ساتھ مقابلہ کرسکو یا بیوقوف لوگوں کے ساتھ بحث کرسکو یا اس کے ذریعے محافل میں اپنا آپ دکھا سکو اور اس علم سے بےرغبت ہو کر جہالت کی طرف راغب ہوتے ہوئے علم کو چھوڑ نہ دینا۔ اے میرے بیٹے محافل کا جائزہ لیتے رہنا جب تم کسی ایسی قوم کو دیکھو جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھ جانا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں فائدہ دے گا اور اگر تم جاہل ہو گے تو وہ لوگ تمہیں تعلیم دیں گے ہوسکتا ہے کہ اللہ کی رحمت ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو اور اس میں سے کچھ حصہ تمہیں بھی نصیب ہوجائے۔ اسی طرح اگر تم کچھ لوگوں کو دیکھو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کر رہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا کیونکہ اگر تم عالم ہوگے تو تمہارا علم تمہیں وہاں کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اگر تم جاہل ہوگے تو وہ لوگ تمہاری جہالت میں مزید اضافہ کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ اللہ کا عذاب ان کی طرف متوجہ ہوجائے اور اس کے ساتھ وہ تمہیں بھی پہنچ جائے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ يَقُولُ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ وَلَا تَتْرُكْ الْعِلْمَ زَهَادَةً فِيهِ وَرَغْبَةً فِي الْجَهَالَةِ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَاجْلِسْ مَعَهُمْ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا عَلَّمُوكَ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ فَيُصِيبَكَ بِهَا مَعَهُمْ وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَلَا تَجْلِسْ مَعَهُمْ إِنْ تَكُنْ عَالِمًا لَمْ يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا زَادُوكَ غَيًّا أَوْ عِيًّا وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِسَخَطٍ فَيُصِيبَكَ بِهِ مَعَهُمْ