সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مقدمہ دارمی

হাদীস নং: ৩৪৩
مقدمہ دارمی
علم اور عالم کی فضیلت
حضرت عبداللہ بن مسعود ارشاد فرماتے ہیں یا عالم بنو یا طالب علم بنو اس کے علاوہ کسی اور حالت میں نہ رہو گے کیونکہ اس کی درمیانی حالت جاہل کی حالت ہے اور بیشک فرشتے اس شخص کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں جو علم کی تلاش میں جاتا ہے اور اس کے اس عمل سے راضی ہو کر فرشتے ایسا کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ رِيَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا وَلَا تَغْدُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ فَإِنَّ مَا بَيْنَ ذَلِكَ جَاهِلٌ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَبْسُطُ أَجْنِحَتَهَا لِلرَّجُلِ غَدَا يَبْتَغِي الْعِلْمَ مِنْ الرِّضَا بِمَا يَصْنَعُ
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান