হাদীস অনুসন্ধানের ফলাফল
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭০৭
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مبارک باد اور دعا
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ : جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے یا خدمت کرنے والا غلام یا باندی خریدے تو یہ دعا کرے ۔ اے اللہ ! اس میں جو خیر اور بھلائی ہے اور تو نے اس کی فطرت میں جو خیر اور بھلائی رکھی ہے میں تجھ سے اس کا سائل ہوں وہ مجھے نصیب فرما ۔ اور اس کے شر سے اور اس کی فطرت کے شر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں تو اس سے میری حفاظت فرما ۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
شادی اور نکاح انسان کی نفسانی شہوت کی تسکین کا ذریعہ ہے ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ دعائیں تعلیم فرما کر اس کو بھی قرب الٰہی کا وسیلہ اور ایک نورانی عمل بنا دیا ۔ (یہ دونوں دعائیں اسی سلسلہ معارف الحدیث کی “کتاب الدعوات” میں بھی گزر چکی ہیں)
تشریح
شادی اور نکاح انسان کی نفسانی شہوت کی تسکین کا ذریعہ ہے ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ دعائیں تعلیم فرما کر اس کو بھی قرب الٰہی کا وسیلہ اور ایک نورانی عمل بنا دیا ۔ (یہ دونوں دعائیں اسی سلسلہ معارف الحدیث کی “کتاب الدعوات” میں بھی گزر چکی ہیں)
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوِ اشْتَرَى خَادِمًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ. (رواه ابوداؤد)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭০৮
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ شادی جتنی ہلکی پھلکی اور آسان ہو اتنی ہی بابرکت ہے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا بار کم سے کم پڑے ۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
ظاہر ہے کہ اس حدیث کا مقصد صرف ایک حقیقت بیان کر دینا نہیں ہے ، بلکہ اس میں امت کو ہدایت اور رہنمائی دی گئی ہے کہ شادیاں ہلکی پھلکی اور کم خرچ ہوا کریں ، اور بشارت سنائی گئی ہے کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری شادیوں اور اس کے نتیجوں میں بڑی برکتیں ہوں گی ۔ آج ہم جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور خاص کر خانگی زندگی میں جو الجھنیں ہیں ان کا بہت بڑا سبب یہی ہے کہ نکاح و شادی کے بارے میں حضور ﷺ کی ان ہدایات سے انحراف کر کے ہم آسمانی برکات اور خداوندی عنایات سے محروم ہو گئے ہیں ۔
تشریح
ظاہر ہے کہ اس حدیث کا مقصد صرف ایک حقیقت بیان کر دینا نہیں ہے ، بلکہ اس میں امت کو ہدایت اور رہنمائی دی گئی ہے کہ شادیاں ہلکی پھلکی اور کم خرچ ہوا کریں ، اور بشارت سنائی گئی ہے کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری شادیوں اور اس کے نتیجوں میں بڑی برکتیں ہوں گی ۔ آج ہم جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور خاص کر خانگی زندگی میں جو الجھنیں ہیں ان کا بہت بڑا سبب یہی ہے کہ نکاح و شادی کے بارے میں حضور ﷺ کی ان ہدایات سے انحراف کر کے ہم آسمانی برکات اور خداوندی عنایات سے محروم ہو گئے ہیں ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤُونَةً " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭০৯
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ فاطمی جہیز
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو جہیز کے طور پر یہ چیزیں دی تھیں ، ایک پلودار چادر ، ایک مشکیزہ ، ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی ۔ (سنن نسائی)
تشریح
ہمارے ملک کے اکثر اہلِ علم اس حدیث کا مطلب یہی سمجھتے اور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ چیزیں (چادر ، مشکیزہ ، تکیہ) اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر “جہیز” کے طور پر دی تھیں ۔ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو “جہیز” کے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج بلکہ تصور بھی نہیں تھا اور “جہیز” کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا ۔ اس زمانہ کی شادیوں کے سلسلے میں کہیں اس کا ذکر نہیں آتا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ حضور ﷺ کی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں بھی کہیں کسی قسم کے “جہیز” کا ذکر نہیں آیا ، حدیث کے لفظ “جهز” کے معنی اصطلاحی جہیز دینے کے نہیں بلکہ ضرورت کا انتظام اور بندوبسگ کرنے کے ہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے حضور ﷺ نے ان چیزوں کا انتظام حضرت علیؓ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے انہی کی طرف سے اور انہی کے پیسوں سے کیا تھا کیوں کہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھر میں نہیں تھیں ۔ روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے ۔ بہرحال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا ۔
تشریح
ہمارے ملک کے اکثر اہلِ علم اس حدیث کا مطلب یہی سمجھتے اور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ چیزیں (چادر ، مشکیزہ ، تکیہ) اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر “جہیز” کے طور پر دی تھیں ۔ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو “جہیز” کے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج بلکہ تصور بھی نہیں تھا اور “جہیز” کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا ۔ اس زمانہ کی شادیوں کے سلسلے میں کہیں اس کا ذکر نہیں آتا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ حضور ﷺ کی دوسری صاحبزادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں بھی کہیں کسی قسم کے “جہیز” کا ذکر نہیں آیا ، حدیث کے لفظ “جهز” کے معنی اصطلاحی جہیز دینے کے نہیں بلکہ ضرورت کا انتظام اور بندوبسگ کرنے کے ہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے حضور ﷺ نے ان چیزوں کا انتظام حضرت علیؓ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے انہی کی طرف سے اور انہی کے پیسوں سے کیا تھا کیوں کہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھر میں نہیں تھیں ۔ روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہو جاتی ہے ۔ بہرحال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ. (رواه النسائى)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১০
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد ولیمہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف پر (یعنی ان کے کپڑوں پر یا جسم پر) زردی کا کچھ اثر دیکھا تو ان سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے کھجور کی گھٹلی کے وزن کے برابر سونے پر (یعنی اس کا مہر اتنا مقرر کیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تمہیں مبارک کرے ! ولیمہ کی دعوت کرو اگرچہ پوری ایک بکری کر ڈالو ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اپنی حسبِ خواہش کسی عورت سے نکاح ہو جانا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت اور دِلی خوشی اور مسرت کی بات ہے اور اس کا حق ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اپنی دلی مسرت و شادمانی کا اظہار ہو ، ولیمہ اس کی عملی شکل ہے ۔ اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ اس کے ذریعہ شادی کرنے والے مرد اور اس کے گھرانے کی طرف سے خوبصورتی کے ساتھ اس کا اعلان و اظہار ہو جاتا ہے کہ شادی کے اس رشتہ سے ہم کو اطمینان اور خوشی ہے اور ہم اس کو اللہ تعالیٰ کی قابلِ شکر نعمت سمجھتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز منکوحہ عورت اور اس کے گھر والوں کے لئے بڑی خوشی اور اطمینان کا باعث ہو گی اور اس سے باہمی تعلق و مودت میں اضافہ ہو گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات اور عمل دونوں سے اس کی رہنمائی فرمائی ۔
تشریح ..... حضور ﷺ کے ارشاد “أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ” کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ دل کھول کے ولیمہ کرو ، چاہو تو اس ولیمہ کے لئے ایک بکری مستقل ذبح کر ڈالو ۔ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب اور رفقاء کی تطییب خاطر کے لئے کبھی ایسی بےتکلفی اور خوش طبعی کی باتیں بھی فرمایا کرتے تھے ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے آپ ﷺ کا یہ ارشاد بھی اسی قبیل سے تھا ۔
ایک بات اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت نے صحابہ کرامؓ کو ایسا بنا دیا تھا کہ وہ اپنی شادی نکاح کی تقریبات میں بھی حضوڑ کو شرکت کی زحمت نہیں دیتے تھے ، بلکہ اطلاع کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔ عبدالرحمٰن بن عوف جو خواص اصحاب اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں انہوں نے خود اپنی شادی کی اور حضور ﷺ کو خبر بھی نہیں ہوئی ۔
حدیث میں عبدالرحمٰن بن عوف پر زردی کے اثر کا جو ذکر ہے ، اس کی حقیقت یہ سمجھنی چاہئے کہ نئی دلہنیں زعفران وغیرہ سے رنگے ہوئے کپڑے پہنتی تھیں ، اس کا اثر مرد کے کپڑوں یا جسم پر بھی آ جاتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کا اثر عبدالرحمن بن عوف پر محسوس کیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔
تشریح
اپنی حسبِ خواہش کسی عورت سے نکاح ہو جانا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت اور دِلی خوشی اور مسرت کی بات ہے اور اس کا حق ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اپنی دلی مسرت و شادمانی کا اظہار ہو ، ولیمہ اس کی عملی شکل ہے ۔ اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ اس کے ذریعہ شادی کرنے والے مرد اور اس کے گھرانے کی طرف سے خوبصورتی کے ساتھ اس کا اعلان و اظہار ہو جاتا ہے کہ شادی کے اس رشتہ سے ہم کو اطمینان اور خوشی ہے اور ہم اس کو اللہ تعالیٰ کی قابلِ شکر نعمت سمجھتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز منکوحہ عورت اور اس کے گھر والوں کے لئے بڑی خوشی اور اطمینان کا باعث ہو گی اور اس سے باہمی تعلق و مودت میں اضافہ ہو گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات اور عمل دونوں سے اس کی رہنمائی فرمائی ۔
تشریح ..... حضور ﷺ کے ارشاد “أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ” کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ دل کھول کے ولیمہ کرو ، چاہو تو اس ولیمہ کے لئے ایک بکری مستقل ذبح کر ڈالو ۔ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب اور رفقاء کی تطییب خاطر کے لئے کبھی ایسی بےتکلفی اور خوش طبعی کی باتیں بھی فرمایا کرتے تھے ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے آپ ﷺ کا یہ ارشاد بھی اسی قبیل سے تھا ۔
ایک بات اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت نے صحابہ کرامؓ کو ایسا بنا دیا تھا کہ وہ اپنی شادی نکاح کی تقریبات میں بھی حضوڑ کو شرکت کی زحمت نہیں دیتے تھے ، بلکہ اطلاع کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔ عبدالرحمٰن بن عوف جو خواص اصحاب اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں انہوں نے خود اپنی شادی کی اور حضور ﷺ کو خبر بھی نہیں ہوئی ۔
حدیث میں عبدالرحمٰن بن عوف پر زردی کے اثر کا جو ذکر ہے ، اس کی حقیقت یہ سمجھنی چاہئے کہ نئی دلہنیں زعفران وغیرہ سے رنگے ہوئے کپڑے پہنتی تھیں ، اس کا اثر مرد کے کپڑوں یا جسم پر بھی آ جاتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کا اثر عبدالرحمن بن عوف پر محسوس کیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ. (رواه البخارى ومسلم)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১১
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد ولیمہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کے نکاح پر ایسا ولیمہ نہیں کیا جیسا کہ زینب بنت جحش کے نکاح کے موقع پر کیا ۔ پوری ایک بکری پر ولیمہ کیا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اور سب بیویوں کے نکاح پر آپ ﷺ نے جو ولیمہ کی دعوت کی وہ اس سے مختصر اور ہلکے پیمانہ پر کی تھی ۔ چنانچہ صحیح بخاری میں صفیہ بنت شیبہ کی روایت سے یہ حدیث مروی ہے کہ آپ ﷺ نے بعض بیویوں کے نکاح پر جو ولیمہ کی دعوت کی تو صرف دو سیر جَو کام میں آئے اور اسی صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت صفیہؓ کو اپنے نکاح میں لیا اور لوگوں کو ولیمہ کی دعوت دی تو دسترخوان پر گوشت روٹی کچھ نہیں تھا ، کچھ کھجوریں تھیں اور کچھ پنیر اور مکھن تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کے لئے باقاعدہ کھانے کی دعوت بھی ضروری نہیں ، کھانے پینے کی جو بھی مناسب اور مرغوب چیز میسر ہو رکھ دی جائے ۔ لیکن بدقسمتی کی انتہا ہے کہ ہم مسلمانوں نے جہیز کی طرح ولیمہ کو بھی ایک مصیبت بنا لیا ۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اور سب بیویوں کے نکاح پر آپ ﷺ نے جو ولیمہ کی دعوت کی وہ اس سے مختصر اور ہلکے پیمانہ پر کی تھی ۔ چنانچہ صحیح بخاری میں صفیہ بنت شیبہ کی روایت سے یہ حدیث مروی ہے کہ آپ ﷺ نے بعض بیویوں کے نکاح پر جو ولیمہ کی دعوت کی تو صرف دو سیر جَو کام میں آئے اور اسی صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت صفیہؓ کو اپنے نکاح میں لیا اور لوگوں کو ولیمہ کی دعوت دی تو دسترخوان پر گوشت روٹی کچھ نہیں تھا ، کچھ کھجوریں تھیں اور کچھ پنیر اور مکھن تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کے لئے باقاعدہ کھانے کی دعوت بھی ضروری نہیں ، کھانے پینے کی جو بھی مناسب اور مرغوب چیز میسر ہو رکھ دی جائے ۔ لیکن بدقسمتی کی انتہا ہے کہ ہم مسلمانوں نے جہیز کی طرح ولیمہ کو بھی ایک مصیبت بنا لیا ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ أَوْلَمَ بِشَاةٍ. (رواه البخارى ومسلم)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১২
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ ولیمہ کی دعوت قبول کرنی چاہئے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کسی کو سلیمہ کی دعوت دی جائے تو اس کو چاہئے کہ دعوت قبول کرے اور آئے ۔ (صحیح بخاری و مسلم)
تشریح
ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ حکم دیا تھا اس وقت ولیمے صحیح قسم کے ہی ہوتے تھے اور ایسے ولیمے جب بھی اور جہاں بھی ہوں ان کے لئے یہی حکم ہے ۔ ایسی مخلصانہ دعوتیں بابرکت ہیں لیکن جن ولیموں میں کھلا اسراف اور نمائش اور تفاخر ہو یا دوسری قسم کی منکرات ہوں ان کے لئے ہرگز یہ حکم نہیں ہے ۔ بلکہ ایسے لوگوں کے ہاں کھانے سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔
تشریح
ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ حکم دیا تھا اس وقت ولیمے صحیح قسم کے ہی ہوتے تھے اور ایسے ولیمے جب بھی اور جہاں بھی ہوں ان کے لئے یہی حکم ہے ۔ ایسی مخلصانہ دعوتیں بابرکت ہیں لیکن جن ولیموں میں کھلا اسراف اور نمائش اور تفاخر ہو یا دوسری قسم کی منکرات ہوں ان کے لئے ہرگز یہ حکم نہیں ہے ۔ بلکہ ایسے لوگوں کے ہاں کھانے سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا. (رواه البخارى ومسلم)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১৩
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ کیسے لوگوں کا کھانا نہ کھایا جائے
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابہم مقابلہ کرنے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی شان اونچی دکھانے کے لئے شاندار دعوتیں کریں ان کے کھانے میں شرکت کرنے سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی شان اونچی دکھانے کے لئے شاندار دعوتیں کریں ان کے کھانے میں شرکت کرنے سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ. (رواه ابوداؤد)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১৪
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ کیسے لوگوں کا کھانا نہ کھایا جائے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : اس ولیمہ کا کھانا برا کھانا ہے جس میں صرف امیروں کو بلایا جائے اور حاجتمندوں غریبوں کو چھوڑ دیا جائے ۔ اور جس نے دعوت کو (بلاوجہ شرعی) قبول نہ کیا تو اس نے اللہا ور اس کے رسول کے حکم کے خلاف کیا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے پہلے جز کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ جب کوئی ولیمہ کرے تو غریبوں حاجت مندوں کو نظر انداز نہ کرے ان کو ضرور دعوت دے جس ولیمہ میں ان کو نہ بلایا جائے صرف امیروں اور بڑے لوگوں کو مدعو کیا جائے اس کا کھانا اس لائق نہیں ہے کہ کھایا جائے ۔ ظاہر ہے کہ ولیمہ کے علاوہ دوسری قسم کی دعوتوں کا حکم بھی یہی ہے حدیث کے دوسرے جز کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ اگر کوئی شرعی مانع یا مجبوری نہ ہو تو مسلمان بھائی کی دعوت کو قبول کرنا چاہئے ۔ اس سے دلوں میں جوڑ پیدا ہوتا ہے اور قبول نہ کرنے سے دلوں میں دوری اور بدگمانیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ اس لئے بلاوجہ دعوت کا قبول نہ کرنا اللہ و رسول کی مرضی اور حکم کے خلاف ہے ۔
تشریح
حدیث کے پہلے جز کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ جب کوئی ولیمہ کرے تو غریبوں حاجت مندوں کو نظر انداز نہ کرے ان کو ضرور دعوت دے جس ولیمہ میں ان کو نہ بلایا جائے صرف امیروں اور بڑے لوگوں کو مدعو کیا جائے اس کا کھانا اس لائق نہیں ہے کہ کھایا جائے ۔ ظاہر ہے کہ ولیمہ کے علاوہ دوسری قسم کی دعوتوں کا حکم بھی یہی ہے حدیث کے دوسرے جز کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ اگر کوئی شرعی مانع یا مجبوری نہ ہو تو مسلمان بھائی کی دعوت کو قبول کرنا چاہئے ۔ اس سے دلوں میں جوڑ پیدا ہوتا ہے اور قبول نہ کرنے سے دلوں میں دوری اور بدگمانیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ اس لئے بلاوجہ دعوت کا قبول نہ کرنا اللہ و رسول کی مرضی اور حکم کے خلاف ہے ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه البخارى ومسلم)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১৫
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ مباشرت سے متعلق ہدایات اور احکام: دعا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی بیوی کے پاس جاتے وقت اللہ کے حضور میں یہ عرض کرے : “بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَ جَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا” (بسم اللہ ! اے اللہ تو شیطان کے شر سے ہم کو بچا اور ہم کو جو اولاد دے اس کو بھی بچا) تو اگر اس مباشرت کے نتیجہ میں ان کے لئے بچہ مقدر ہو گا تو شیطان کبھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا اور وہ ہمیشہ شرِ شیطان سے محفوظ رہے گا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ حدیث معارف الحدیث “کتاب الدعوات” میں بھی ذکر کی جا چکی ہے اور وہاں تشریح میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی “اشعۃ اللمعات” کے حوالہ سے ان کا یہ عارفانہ نکتہ بھی نقل کیا جا چکا ہے کہ اس حدیث سے مفہوم ہوتا ہے کہ اگر مباشرت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اس طرح کی دعا نہ کی اور خدا سے غافل رہ کر جانوروں کی طرح شہوتِ نفس کا تقاضا پورا کر لیا تو ایسی مباشرت سے جو اولاد پیدا ہو گی وہ شیطان کے شر سے محفوظ نہیں رہے گی ۔ اس کے آگے شیخ نے فرمایا ہے کہ “اس زمانہ میں پیدا ہونے والی نسل کے احوال ، اخلاق ، عادات جو عام طور سے خراب و برباد ہیں اس کی خاص بنیاد یہی ہے” ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کی ان ہدایات کی روشنی میں اور ان سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے ۔
تشریح
یہ حدیث معارف الحدیث “کتاب الدعوات” میں بھی ذکر کی جا چکی ہے اور وہاں تشریح میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی “اشعۃ اللمعات” کے حوالہ سے ان کا یہ عارفانہ نکتہ بھی نقل کیا جا چکا ہے کہ اس حدیث سے مفہوم ہوتا ہے کہ اگر مباشرت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اس طرح کی دعا نہ کی اور خدا سے غافل رہ کر جانوروں کی طرح شہوتِ نفس کا تقاضا پورا کر لیا تو ایسی مباشرت سے جو اولاد پیدا ہو گی وہ شیطان کے شر سے محفوظ نہیں رہے گی ۔ اس کے آگے شیخ نے فرمایا ہے کہ “اس زمانہ میں پیدا ہونے والی نسل کے احوال ، اخلاق ، عادات جو عام طور سے خراب و برباد ہیں اس کی خاص بنیاد یہی ہے” ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کی ان ہدایات کی روشنی میں اور ان سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا. (رواه البخارى ومسلم)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১৬
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ مباشرت ایک راز ہے اس کا افشا بدترین گناہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : قیامت کے دن اللہ کے ہاں وہ آدمی بدترین درجہ میں ہو گا جو بیوی سے ہم بستری کے بعد اس کا راز فاش کرے ۔ (صحیح مسلم)
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا. (رواه مسلم)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১৭
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ خلافِ وضع فطری عمل پر خدا کی لعنت ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص بیوی کے ساتھ خلاف وضع فطرت عمل کرے وہ ملعون ہے ۔ (مسند احمد ، سنن ابی داؤد)
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا. (رواه مسلم)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১৮
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ خلافِ وضع فطری عمل پر خدا کی لعنت ہے
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : جو شخص کسی مرد یا عورت کے ساتھ خلاف وضع فطرت حرکت کرے اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر بھی نہ فرمائے گا ۔ (جامع ترمذی)
تشریح
بےچارے حیوانات بھی جو عقل و تمیز سے محروم ہیں وہ بھی شہوت کا تقاضا خلاف فطرت طریقے سے پورا نہیں کرتے ، پس جو انسان ایسا کرتے ہیں وہ حیوانوں سے بھی بدتر اور “ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ” کے مصداق ہیں ۔ یہ بات قیامت اور آخرت ہی میں معلوم ہو گی کہ اللہ کی نظر کرم سے محروم ہو جانا کتنی بڑی بدبکتی ہے ۔
تشریح
بےچارے حیوانات بھی جو عقل و تمیز سے محروم ہیں وہ بھی شہوت کا تقاضا خلاف فطرت طریقے سے پورا نہیں کرتے ، پس جو انسان ایسا کرتے ہیں وہ حیوانوں سے بھی بدتر اور “ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ” کے مصداق ہیں ۔ یہ بات قیامت اور آخرت ہی میں معلوم ہو گی کہ اللہ کی نظر کرم سے محروم ہو جانا کتنی بڑی بدبکتی ہے ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلاً أَوِ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ. (رواه الترمذى)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭১৯
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ عزل
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں) جبکہ نزولِ قرآن کا سلسلہ جاری تھا ، ہم لوگ (یعنی بعض اصحاب) عزل کرتے تھے (اور اس کی ممانعت میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی) اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضور ﷺ کو اس کی اطلاع بھی ہوئی مگر آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
کبھی ایسا بھی ہو.تا ہے کہ آدمی کسی خاص وجہ سے (مثلاً بیوی کی صحت یا پہلے بچہ کی صحت کے تحفظ کے خیال سے) یہ نہیں چاہتا کہ اس وقت اس کی بیوی کو حمل قرار پائے ، وہ اس غرض سے ایسا کرتا ہے کہ انزال کا وقت قریب آنے پر اپنے کو بیوی سے الگ کر لیتا ہے تا کہ مادہ منویہ باہر خارج ہو جائے ، اسی کو عزل کہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی بعض لوگ ایسا کرتے تھے ، اس کے بارے میں حضور ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے جواب دیا جس کا ذکر آگے حدیث میں آ رہا ہے اور بظاہر جس کا مفاد یہ ہے کہ یہ ممنوع اور ناجائز تو نہیں ہے لیکن اچھا بھی نہیں ہے ۔ امت کے اکثر فقہا نے اس باب کی حدیثوں سے یہی سمجھا ہے اور ان کے نزدیک مسئلہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے خاص حالات اور مصالح کی وجہ سے عزل کرے تو گنجائش ہے گناہ نہیں ہے ۔ لیکن فی زماننا مغربی اقوام و ممالک کی تقلید و پیروی میں بعض ملکوں میں ملکی اور قومی پیمانے پر تحدید نسل کی مہمیں جس طرح چلائی جا رہی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ انسانی نسل بڑھنے نہ پائے ، اگر بڑھتی رہی تو روٹی نہ ملے گی ، اس کی اسلام میں قطعاً گنجائش نہی ہے ، یہ وہی گمراہانہ نقطہ نظر ہے جس کی بناء پر زمانہ جاہلیت کے بعض عرب اپنے نومولود بچوں کو ختم کر دیتے تھے ۔ قرآن پاک میں انہی سے فرمایا گیا ہے ۔
لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ
اپنے بچوں کو مفلسی اور ناداری کی وجہ سے ختم نہ کرو ، ہم تمہیں بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے ۔
اس تمہید کے بعد عزل سے متعلق مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے :
تشریح
کبھی ایسا بھی ہو.تا ہے کہ آدمی کسی خاص وجہ سے (مثلاً بیوی کی صحت یا پہلے بچہ کی صحت کے تحفظ کے خیال سے) یہ نہیں چاہتا کہ اس وقت اس کی بیوی کو حمل قرار پائے ، وہ اس غرض سے ایسا کرتا ہے کہ انزال کا وقت قریب آنے پر اپنے کو بیوی سے الگ کر لیتا ہے تا کہ مادہ منویہ باہر خارج ہو جائے ، اسی کو عزل کہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی بعض لوگ ایسا کرتے تھے ، اس کے بارے میں حضور ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے جواب دیا جس کا ذکر آگے حدیث میں آ رہا ہے اور بظاہر جس کا مفاد یہ ہے کہ یہ ممنوع اور ناجائز تو نہیں ہے لیکن اچھا بھی نہیں ہے ۔ امت کے اکثر فقہا نے اس باب کی حدیثوں سے یہی سمجھا ہے اور ان کے نزدیک مسئلہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے خاص حالات اور مصالح کی وجہ سے عزل کرے تو گنجائش ہے گناہ نہیں ہے ۔ لیکن فی زماننا مغربی اقوام و ممالک کی تقلید و پیروی میں بعض ملکوں میں ملکی اور قومی پیمانے پر تحدید نسل کی مہمیں جس طرح چلائی جا رہی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ انسانی نسل بڑھنے نہ پائے ، اگر بڑھتی رہی تو روٹی نہ ملے گی ، اس کی اسلام میں قطعاً گنجائش نہی ہے ، یہ وہی گمراہانہ نقطہ نظر ہے جس کی بناء پر زمانہ جاہلیت کے بعض عرب اپنے نومولود بچوں کو ختم کر دیتے تھے ۔ قرآن پاک میں انہی سے فرمایا گیا ہے ۔
لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ
اپنے بچوں کو مفلسی اور ناداری کی وجہ سے ختم نہ کرو ، ہم تمہیں بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے ۔
اس تمہید کے بعد عزل سے متعلق مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے :
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. (رواه البخارى ومسلم)
وزاد مسلم فَبَلَغَ ذَالِكَ النَّبِيَّ فَلَمْ يَنْهَنَا.
وزاد مسلم فَبَلَغَ ذَالِكَ النَّبِيَّ فَلَمْ يَنْهَنَا.
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭২০
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ عزل
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ : ایسا نہیں ہے کہ پورے مادہ منویہ ہی سے بچہ ہو ۔ (یعنی غیر ارادی طور پر خارج ہونے والے ایک قطرہ سے بھی اللہ کا حکم ہو تو حمل قرار پا سکتا ہے) اور جب کسی چیز کی تخلیق کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہو جائے تو پھر کوئی چیز اس کو روک نہیں سکتی ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ عزل کیا جائے گا تو بچہ نہیں ہوگا اگر اللہ کی مشیت ہوگی تو بچہ بہرحال پیدا ہوگا یہ مضمون آگے درج ہونے والی حدیث سے اور زیادہ واضح ہو جائے گا ۔
تشریح
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ عزل کیا جائے گا تو بچہ نہیں ہوگا اگر اللہ کی مشیت ہوگی تو بچہ بہرحال پیدا ہوگا یہ مضمون آگے درج ہونے والی حدیث سے اور زیادہ واضح ہو جائے گا ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ: مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ خَلْقَ شيء لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ. (رواه مسلم)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭২১
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ عزل
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری ایک باندی ہے اور وہی ہمارے گھر کا کام کاج کرتی ہے اور میں اس سے صحبت بھی کرتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ اس کے حمل قرار پائے (غالباً مطلب یہ تھا کہ کیا میں عزل کر سکتا ہوں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو عزل کرو لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس باندی کے لئے جو مقدر ہوچکا ہے وہ ضرور ہوگا کچھ دنوں کے بعد وہی آدمی آیا اور عرض کیا کہ اس باندی کے تو حمل قرار پا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو تم کو بتایا تھا کہ جو اس کے لیے مقدر ہوچکا ہے وہ ہو کے رہے گا ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارشاد نقل کیا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالی کی طرف سے کسی چیز کے وجود کا فیصلہ ہو چکا ہے تو اس کو روکنے کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوگی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو کے رہے گا مثلا ایک آدمی اس مقصد سے کہ بیوی کے حمل قرار نہ پائے عزل کرتا ہے تو اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کسی وقت بچہ پیدا ہونے کی ہوگی تو ایسا ہوگا کہ وہ بروقت عزل نہ کر سکے گا اور مادہ منویہ اندر ہی خارج ہوجائے گا یا وہ عزل کرے گا لیکن مادہ کا کوئی جز پہلے ہی خارج ہوجائے گا اور اس کو شعور بھی نہ ہوگا الغرض انسانی تدبیر فیل ہو گی اور ارادہ الٰہیہ پورا ہو کے رہے گا۔ واللہ اعلم۔
تشریح
اس حدیث میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارشاد نقل کیا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالی کی طرف سے کسی چیز کے وجود کا فیصلہ ہو چکا ہے تو اس کو روکنے کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوگی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو کے رہے گا مثلا ایک آدمی اس مقصد سے کہ بیوی کے حمل قرار نہ پائے عزل کرتا ہے تو اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کسی وقت بچہ پیدا ہونے کی ہوگی تو ایسا ہوگا کہ وہ بروقت عزل نہ کر سکے گا اور مادہ منویہ اندر ہی خارج ہوجائے گا یا وہ عزل کرے گا لیکن مادہ کا کوئی جز پہلے ہی خارج ہوجائے گا اور اس کو شعور بھی نہ ہوگا الغرض انسانی تدبیر فیل ہو گی اور ارادہ الٰہیہ پورا ہو کے رہے گا۔ واللہ اعلم۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمَتُنَا وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ. فَقَالَ: اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا. فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ. فَقَالَ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا. (رواه مسلم)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭২২
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ چار بیویوں تک کی اجازت
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہلانا بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا اور اس وقت ان کی دس بیویاں تھیں ان سب نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کرلیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت فرمائی کہ چار بیویاں تو رکوع اور باقیوں کو جدا کر دو ۔ (مسند احمد)
تشریح
جو لوگ انسانوں کی فطرت اور ان کے مختلف طبقات کے حالات سے واقف ہیں وہ یقین کے ساتھ جانتے ہونگے کہ بہت سے آدمی اپنی طبیعت اور مزاج کے لحاظ سے اور بہت سے اپنے یا اپنی بیوی کے مخصوص حالات کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کی ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت نہ ہو تو اس کا بڑا خطرہ ہوگا کہ وہ حرام میں مبتلا ہو جائیں اسی لیے آسمانی شریعتوں میں جن میں زنا اشد حرام قرار دیا گیا ہے عام طور سے اس کی اجازت رہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت میں خاص کر شادی شدہ آدمی کے لیے زنا اتنا شدید گناہ ہے کہ اس کی سزا سنگساری ہے’ ایسی شریعت میں اگر کسی حال میں بھی تعداد ازواج کی اجازت نہ ہو تو انسان پر قانون کی یہ بہت زیادتی ہوگی جن مغربی ملکوں اور قوموں کے قانون میں تعداد ازواج کی بالکل گنجائش نہیں ہے ان میں زنا کو قانونی جواز حاصل ہے اور عمل بھی وہاں زنا کی جتنی کثرت ہے وہ کوئی پوشیدہ راز نہیں ہے اسلامی شریعت نے زنا کو ختم کرنے کے لئے ایک طرف تو اس کے لیے سخت سے سخت سزا مقرر کی اور دوسری طرف مناسب شرائط کے ساتھ چار بیویاں تک کی اجازت دی ان کے علاوہ بھی بہت سے وجوہ اسباب ہیں جن کا یہی تقاضہ ہے لیکن ان کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا کی بہت سی دوسری قوموں کی طرح عربوں میں بھی بیویوں کی تعداد کا کوئی تہدیدی نہ تھا بعض لوگ دس دس اور اس سے بھی زیادہ بیویاں رکھتے تھے اسلامی شریعت میں انسانوں کی مختلف حالتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی آخری حد چار مقرر فرما دی گئی ۔
تشریح
جو لوگ انسانوں کی فطرت اور ان کے مختلف طبقات کے حالات سے واقف ہیں وہ یقین کے ساتھ جانتے ہونگے کہ بہت سے آدمی اپنی طبیعت اور مزاج کے لحاظ سے اور بہت سے اپنے یا اپنی بیوی کے مخصوص حالات کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کی ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت نہ ہو تو اس کا بڑا خطرہ ہوگا کہ وہ حرام میں مبتلا ہو جائیں اسی لیے آسمانی شریعتوں میں جن میں زنا اشد حرام قرار دیا گیا ہے عام طور سے اس کی اجازت رہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت میں خاص کر شادی شدہ آدمی کے لیے زنا اتنا شدید گناہ ہے کہ اس کی سزا سنگساری ہے’ ایسی شریعت میں اگر کسی حال میں بھی تعداد ازواج کی اجازت نہ ہو تو انسان پر قانون کی یہ بہت زیادتی ہوگی جن مغربی ملکوں اور قوموں کے قانون میں تعداد ازواج کی بالکل گنجائش نہیں ہے ان میں زنا کو قانونی جواز حاصل ہے اور عمل بھی وہاں زنا کی جتنی کثرت ہے وہ کوئی پوشیدہ راز نہیں ہے اسلامی شریعت نے زنا کو ختم کرنے کے لئے ایک طرف تو اس کے لیے سخت سے سخت سزا مقرر کی اور دوسری طرف مناسب شرائط کے ساتھ چار بیویاں تک کی اجازت دی ان کے علاوہ بھی بہت سے وجوہ اسباب ہیں جن کا یہی تقاضہ ہے لیکن ان کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا کی بہت سی دوسری قوموں کی طرح عربوں میں بھی بیویوں کی تعداد کا کوئی تہدیدی نہ تھا بعض لوگ دس دس اور اس سے بھی زیادہ بیویاں رکھتے تھے اسلامی شریعت میں انسانوں کی مختلف حالتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی آخری حد چار مقرر فرما دی گئی ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غَيْلاَنَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الجَاهِلِيَّةِ، فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ أَرْبَعاً. وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ. (رواه احمد)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭২৩
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ بیویوں کے ساتھ برتاؤ میں عدل و مساوات
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی آدمی کی دو یا زیادہ بیویاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ عدل و مساوات کا برتاؤ نہ کرے تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اسکا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا ۔ (جامع ترمذی سنن ابی داؤد سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند دارمی)
تشریح
اگر کسی شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو اس کے لیے بطور فریضہ کے لازم کیا گیا ہے کہ وہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے کسی کے ساتھ ادنیٰ بے انصافی نہ ہو قرآن مجید میں سورہ نساء کی جس آیت میں چار تک کی اجازت دی گئی ہے اس میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے “وَإِنْ لَّمْ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً” یعنی اگر تم ایک سے زیادہ بیویوں سے نکاح کرنے کی صورت میں عدل پر قائم نہ رہ سکو اور ہر ایک کے ساتھ یکساں برتاؤ نہ کر سکو تو بس ایک ہی بیوی پر قناعت کرو ایک سے زیادہ نکاح مت کرو ۔
بیویوں کے ساتھ عدل نہ کرنے والے شہروں کو آخرت میں جو خاص رسوا کن عذاب ہوگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ذکر فرمایا تاکہ لوگ اس معاملے میں ڈرتے رہیں ہاں دل کے ملان پر انسان کا اختیار نہیں لیکن معاملہ اور برتاؤ میں فرق نہ ہونا چاہیے ۔
تشریح ..... دنیا کے گناہوں اور آخرت کی سزاؤں میں جومناسب اورمشابہت ہوگی یہ بھی اس کی ایک مثال ہیں وہ معاملہ اور برتاؤ میں ایک بیوی کی طرف جھکتا تھا قیامت ہوگا کہ اسکا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا اور سب اس کو اس حال میں دیکھیں گے اللہ کی پناہ کیسا منظر ہوگا اور کیسی رسوائی ہوگی۔
تشریح
اگر کسی شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو اس کے لیے بطور فریضہ کے لازم کیا گیا ہے کہ وہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے کسی کے ساتھ ادنیٰ بے انصافی نہ ہو قرآن مجید میں سورہ نساء کی جس آیت میں چار تک کی اجازت دی گئی ہے اس میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے “وَإِنْ لَّمْ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً” یعنی اگر تم ایک سے زیادہ بیویوں سے نکاح کرنے کی صورت میں عدل پر قائم نہ رہ سکو اور ہر ایک کے ساتھ یکساں برتاؤ نہ کر سکو تو بس ایک ہی بیوی پر قناعت کرو ایک سے زیادہ نکاح مت کرو ۔
بیویوں کے ساتھ عدل نہ کرنے والے شہروں کو آخرت میں جو خاص رسوا کن عذاب ہوگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ذکر فرمایا تاکہ لوگ اس معاملے میں ڈرتے رہیں ہاں دل کے ملان پر انسان کا اختیار نہیں لیکن معاملہ اور برتاؤ میں فرق نہ ہونا چاہیے ۔
تشریح ..... دنیا کے گناہوں اور آخرت کی سزاؤں میں جومناسب اورمشابہت ہوگی یہ بھی اس کی ایک مثال ہیں وہ معاملہ اور برتاؤ میں ایک بیوی کی طرف جھکتا تھا قیامت ہوگا کہ اسکا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا اور سب اس کو اس حال میں دیکھیں گے اللہ کی پناہ کیسا منظر ہوگا اور کیسی رسوائی ہوگی۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ. (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه والدارمى)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭২৪
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ بیویوں کے ساتھ برتاؤ میں عدل و مساوات
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سب بیویوں کے ہاں باری باری رہتے تھے اور پورے عادل کا برتاؤ فرماتے تھے اور اس کے ساتھ اللہ سے عرض کرتے تھے کہ اے میرے اللہ یہ میری تقسیم ہے ان معاملات میں اور اس عملی برتاؤ میں جو میرے اختیار میں ہیں پس میری سرزنش اور محاسبہ نہ فرما دل کے اس معاملے میں جو تیرے ہیں میرے اختیار میں نہیں۔ (جامع ترمذی سنن ابی داؤد سنن نسائی سنن ابن ماجہ مسند الدارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جہاں تک رہن سہن اور عملی برتاؤ کا تعلق ہے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مثالی اور کامل عدل فرماتے تھے جو معاملہ اور برتاؤ کیسی ایک کے ساتھ تھا وہ سب کے ساتھ تھا لیکن قلبی محبت اور دل کا میلان ایسی چیز ہے جس پر کسی بشر کا قابل نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی قابو نہیں تھا اس کا حال یکساں نہیں تھا اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے حضور میں اس طرح معذرت فرماتے تھے کہ اے اللہ یہ چیز میرے اختیار میں نہیں ہے آپ کے اختیار میں ہے اس پر مواخذہ اور محاسبہ نہ ہو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال عبدیت تھا ورنہ قرآن مجید میں فرما دیا گیا ہے ..... “لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جہاں تک رہن سہن اور عملی برتاؤ کا تعلق ہے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مثالی اور کامل عدل فرماتے تھے جو معاملہ اور برتاؤ کیسی ایک کے ساتھ تھا وہ سب کے ساتھ تھا لیکن قلبی محبت اور دل کا میلان ایسی چیز ہے جس پر کسی بشر کا قابل نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی قابو نہیں تھا اس کا حال یکساں نہیں تھا اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے حضور میں اس طرح معذرت فرماتے تھے کہ اے اللہ یہ چیز میرے اختیار میں نہیں ہے آپ کے اختیار میں ہے اس پر مواخذہ اور محاسبہ نہ ہو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال عبدیت تھا ورنہ قرآن مجید میں فرما دیا گیا ہے ..... “لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ هَذِهِ قِسْمَتِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلاَ تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلاَ أَمْلِكُ. (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه والدارمى)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭২৫
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ طلاق اور عدت: طلاق سخت نا پسندیدہ فعل
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے حلال اور جائز چیزوں میں اللہ تعالی کو سب سے زیادہ مبغوض طلاق ہے۔ (سنن ابی داود)
تشریح
جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے نکاح اور شادی کا مقصد یہ ہے کہ مردوعورت یہ رشتہ قائم کرکے اور باہم وابستہ ہوکر عفت و پاکبازی کے ساتھ مسرت و شادمانی کی زندگی گزار سکیں اور جس طرح وہ خود کسی کی اولاد ہیں اسی طرح ان سے بھی اولاد کا سلسلہ چلے اور وہ اولاد ان کے لیے دل اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان اور آخرت میں حصول جنت کا وسیلہ بنے اور ان مقاصد کے لیے ضروری ہے کہ دونوں میں محبت اور خوشگواری کا تعلق رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہروں اور بیویوں کو باہم برتاؤ کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں ان کا محور اور مرکزی نقطہ یہی ہے اس کے باوجود کبھی ایسے حالات ہوجاتے ہیں کہ شوہر اور بیوی کے درمیان سخت تلخی اور ناگواری پیدا ہوجاتی ہے اور ساتھ رہنا بجائے راحت و مسرت کے مصیبت بن جاتا ہے ایسے وقت کے لئے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تعلیم و ترغیب یہی ہے کہہ ۃروصو دونوں ناگواریوں کو جھیلیں نباہنے اور تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کریں لیکن آخری چارہ کار کے طور پر طلاق کی بھی اجازت دی گئی ہے اگر کسی حالت میں بھی طلاق اور علیحدگی کی اجازت نہ ہو تو پھر یہ تعلق اور رشتہ دونوں کے لیے عذاب بن سکتا ہے پھر طلاق کے سلسلے میں تفصیلی ہدایات بھی دی گئی ہیں ۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی اصولی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ طلاق اور اس کے ذریعے شوہر و بیوی کے تعلقات کا ٹوٹنا اللہ تعالیٰ کو بےحد ناپسند ہے لہذا جہاں تک ممکن ہو اس سے بچ نہیں چاہیے نا مرد خون یہ اقدام کرے نو عورت اس کا مطالبہ کرے بس انتہائی مجبوری کی صورت ہی میں ایسا کیا جائے جس طرح کیسی وضو میں بڑا فساد پیدا ہوجانے کی صورت میں آپریشن گوارا کیا جاتا ہے۔
پھر اس طلاق اور علیحدگی کا طریقہ بھی بتلایا گیا ہے کہ شوہر طہر کی حالت میں یعنی جن دنوں میں عورت کی ناپاکی کی خالص حالت نہ ہو صرف ایک رجعی طلاق دے تاکہ زمانہ عدت میں رجعت یعنی رجوع کر لینے کی گنجائش رہے پھر اگر شوہر کو رجوع کرنے کا فیصلہ نہ کر سکے تو عدت کی مدت گزر جانے دے اس سے رجعت کی گنجائش تو نہ رہے گی لیکن دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کا رشتہ قائم ہو سکے گا۔
بیک وقت تین طلاق دینے کو تو ناجائز اور سخت گناہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ آگے درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہوگا لیکن متفرق اوقات میں تین طلاقیں دینے کو بھی سخت ناپسند کیا گیا ہے اور اس کی یہ سزا اس دنیا ہی میں مقرر کی گئی ہے کہ اگر وہ شوہر اپنی اس مطلقہ بیوی سے پھر نکاح کرنا چاہے تو نہیں کر سکے گا جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد کے نکاح میں آکر اس کی زیر صحبت نہ رہی ہو پھر یا تو اس کے انتقال کرجانے سے بیوہ ہو گئی ہو یا اس نے بھی طلاق دے دی ہو۔
الغرض صرف اسی صورت میں عدت گزر جانے کے بعد ان دونوں کا دوبارہ نکاح ہو سکے گا یہ سخت پابندی دراصل شوہر کو تین طلاق دینے ہی کی سزا ہے اس تمہید کے بعد اس سلسلے کی چند احادیث ذیل میں پڑھئے :
تشریح
جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے نکاح اور شادی کا مقصد یہ ہے کہ مردوعورت یہ رشتہ قائم کرکے اور باہم وابستہ ہوکر عفت و پاکبازی کے ساتھ مسرت و شادمانی کی زندگی گزار سکیں اور جس طرح وہ خود کسی کی اولاد ہیں اسی طرح ان سے بھی اولاد کا سلسلہ چلے اور وہ اولاد ان کے لیے دل اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان اور آخرت میں حصول جنت کا وسیلہ بنے اور ان مقاصد کے لیے ضروری ہے کہ دونوں میں محبت اور خوشگواری کا تعلق رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہروں اور بیویوں کو باہم برتاؤ کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں ان کا محور اور مرکزی نقطہ یہی ہے اس کے باوجود کبھی ایسے حالات ہوجاتے ہیں کہ شوہر اور بیوی کے درمیان سخت تلخی اور ناگواری پیدا ہوجاتی ہے اور ساتھ رہنا بجائے راحت و مسرت کے مصیبت بن جاتا ہے ایسے وقت کے لئے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تعلیم و ترغیب یہی ہے کہہ ۃروصو دونوں ناگواریوں کو جھیلیں نباہنے اور تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کریں لیکن آخری چارہ کار کے طور پر طلاق کی بھی اجازت دی گئی ہے اگر کسی حالت میں بھی طلاق اور علیحدگی کی اجازت نہ ہو تو پھر یہ تعلق اور رشتہ دونوں کے لیے عذاب بن سکتا ہے پھر طلاق کے سلسلے میں تفصیلی ہدایات بھی دی گئی ہیں ۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی اصولی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ طلاق اور اس کے ذریعے شوہر و بیوی کے تعلقات کا ٹوٹنا اللہ تعالیٰ کو بےحد ناپسند ہے لہذا جہاں تک ممکن ہو اس سے بچ نہیں چاہیے نا مرد خون یہ اقدام کرے نو عورت اس کا مطالبہ کرے بس انتہائی مجبوری کی صورت ہی میں ایسا کیا جائے جس طرح کیسی وضو میں بڑا فساد پیدا ہوجانے کی صورت میں آپریشن گوارا کیا جاتا ہے۔
پھر اس طلاق اور علیحدگی کا طریقہ بھی بتلایا گیا ہے کہ شوہر طہر کی حالت میں یعنی جن دنوں میں عورت کی ناپاکی کی خالص حالت نہ ہو صرف ایک رجعی طلاق دے تاکہ زمانہ عدت میں رجعت یعنی رجوع کر لینے کی گنجائش رہے پھر اگر شوہر کو رجوع کرنے کا فیصلہ نہ کر سکے تو عدت کی مدت گزر جانے دے اس سے رجعت کی گنجائش تو نہ رہے گی لیکن دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کا رشتہ قائم ہو سکے گا۔
بیک وقت تین طلاق دینے کو تو ناجائز اور سخت گناہ قرار دیا گیا ہے جیسا کہ آگے درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہوگا لیکن متفرق اوقات میں تین طلاقیں دینے کو بھی سخت ناپسند کیا گیا ہے اور اس کی یہ سزا اس دنیا ہی میں مقرر کی گئی ہے کہ اگر وہ شوہر اپنی اس مطلقہ بیوی سے پھر نکاح کرنا چاہے تو نہیں کر سکے گا جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد کے نکاح میں آکر اس کی زیر صحبت نہ رہی ہو پھر یا تو اس کے انتقال کرجانے سے بیوہ ہو گئی ہو یا اس نے بھی طلاق دے دی ہو۔
الغرض صرف اسی صورت میں عدت گزر جانے کے بعد ان دونوں کا دوبارہ نکاح ہو سکے گا یہ سخت پابندی دراصل شوہر کو تین طلاق دینے ہی کی سزا ہے اس تمہید کے بعد اس سلسلے کی چند احادیث ذیل میں پڑھئے :
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَبْغَضُ الْحَلاَلِ إِلَى اللَّهِ الطَّلاَقُ. (رواه ابوداؤد)
তাহকীক:
মা'আরিফুল হাদীস
হাদীস নং: ১৭২৬
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
পরিচ্ছেদঃ طلاق اور عدت: طلاق سخت نا پسندیدہ فعل
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے معاذ اللہ تعالی نے روئے زمین پر کوئی چیز ایسی پیدا نہیں کی جو غلاموں اور باندیوں کو آزاد کرنے سے زیادہ اللہ تعالی کو محبوب اور پسندیدہ ہوں اور روئے زمین پر کوئی چیز ایسی پیدا نہیں کی جو طلاق دینے سے زیادہ اللہ تعالی کو مبغوض اور ناپسندیدہ ہو۔ (سنن دارقطنی)
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مُعَاذُ مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ , وَلَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ. (رواه الدار قطنى)
তাহকীক: