আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
خرید وفروخت کا بیان
হাদীস নং: ১২৫৬
خرید وفروخت کا بیان
غلام یا باندی آزاد کرتے ہوئے ولاء کی شرط کی ممانعت
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ (لونڈی) کو خریدنا چاہا، تو بریرہ کے مالکوں نے ولاء ١ ؎ کی شرط لگائی تو نبی اکرم ﷺ نے عائشہ سے فرمایا : تم اسے خرید لو، (اور آزاد کر دو ) اس لیے کہ ولاء تو اسی کا ہوگا جو قیمت ادا کرے، یا جو نعمت (آزاد کرنے) کا مالک ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی حدیث مروی ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/کفارات الأیمان ٨ (٦٧١٧) ، سنن النسائی/الطلاق ٣٠ (٣٤٧٩) ، (وانظر أیضا ما یقدم برقم : ١١٥٤، وما یأتي برقم : ٢١٢٤ و ٢١٢٥) (تحفة الأشراف : ١٥٩٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بائع کے لیے ولاء کی شرط لگانا صحیح نہیں ، ولاء اسی کا ہوگا جو خرید کر آزاد کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2521) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1256
حدیث نمبر: 1256 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ: وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ يُكْنَى: أَبَا عَتَّابٍ.