আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৭১৬
سیر کا بیان
عالم کی پیدائش کا بیان (خلق کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ )
(١٧٧١٠) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا اور پھر ان پر اپنا نور ڈالا۔ جس کو اس دن اس نور میں سے کچھ مل گیا تو اس نے تو ہدایت پا لی اور جس کو یہ نور نہ ملا تو وہ گمراہ ہوگیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ قلمیں لکھ کر خشک ہوگئی ہیں اللہ کے علم کے مطابق۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : پھر اللہ عزوجل نے واضح کردیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے : { کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ } [البقرۃ ٢١٣] کہ ” پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا “ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : پھر اللہ عزوجل نے واضح کردیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے : { کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ } [البقرۃ ٢١٣] کہ ” پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا “ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔
(١٧٧١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ وَیَحْیَی بْنُ أَبِی عَمْرٍو السَّیْبَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ فَیْرُوزَ الدَّیْلَمِیُّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ خَلَقَ خَلْقَہُ فِی ظُلْمَۃٍ ثُمَّ أَلْقَی عَلَیْہِمْ مِنْ نُورِہِ فَمَنْ أَصَابَہُ مِنْ ذَلِکَ النُّورِ یَوْمَئِذٍ شَیْئٌ اہْتَدَی وَمَنْ أَخْطَأَہُ ضَلَّ فَلِذَلِکَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَی عِلْمِ اللَّہِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : ثُمَّ أَبَانَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ أَنَّ خِیرَتَہُ مِنْ خَلْقِہِ أَنْبِیَاؤُہُ فَقَالَ { کَانَ النَّاسُ أَمَۃً وَاحِدَۃً فَبَعَثَ اللَّہُ النَّبِیِّینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنْذِرِینَ } [البقرۃ ٢١٣] فَجَعَلَ نَبِیَّنَا - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ أَصْفِیَائِہِ دُونَ عِبَادِہِ بِالأَمَانَۃِ عَلَی وَحْیِہِ وَالْقِیَامِ بِحُجَّتِہِ فِیہِمْ ۔ [صحیح۔ الدیلمی ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : ثُمَّ أَبَانَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ أَنَّ خِیرَتَہُ مِنْ خَلْقِہِ أَنْبِیَاؤُہُ فَقَالَ { کَانَ النَّاسُ أَمَۃً وَاحِدَۃً فَبَعَثَ اللَّہُ النَّبِیِّینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنْذِرِینَ } [البقرۃ ٢١٣] فَجَعَلَ نَبِیَّنَا - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ أَصْفِیَائِہِ دُونَ عِبَادِہِ بِالأَمَانَۃِ عَلَی وَحْیِہِ وَالْقِیَامِ بِحُجَّتِہِ فِیہِمْ ۔ [صحیح۔ الدیلمی ]