আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৭০৯
سیر کا بیان
عالم کی پیدائش کا بیان (خلق کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ )
(١٧٧٠٣) حضرت عباس (رض) فرماتے ہیں کہ چیزوں میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے کہا : لکھ۔ اس نے کہا : اے میرے رب ! میں کیا لکھوں ؟ اللہ تعالیٰ نے کہا : تقدیر کو لکھو۔ پس اس نے جو کچھ اس دن سے لے کر قیامت تک ہونا تھا لکھ دیا۔ ابن عباس (رض) نے کہا : پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو پیدا کیا اور اس پر زمین کو پھیلا دیا۔ اس طرح پانی سے بخارات بلند ہوئے تو اس سے آسمان الگ ہوگئے اور مچھلی نے حرکت کی تو زمین کے اندر پھیلاؤ اور جنبش آئی تو اس کو پہاڑوں سے ثابت اور مضبوط کردیا گیا اور اسی وجہ سے پہاڑ زمین پر قیامت تک فخر کرتے ہیں۔
(١٧٧٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِم : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ أَخْبَرَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ شَیْئٍ الْقَلَمُ فَقَالَ اکْتُبْ ۔ قَالَ : یَا رَبِّ وَمَا أَکْتُبُ ؟ قَالَ : اکْتُبِ الْقَدَرَ ۔ قَالَ : فَجَرَی بِمَا ہُوَ کَائِنٌ مِنْ ذَلِکَ الْیَوْمِ إِلَی قِیَامِ السَّاعَۃِ قَالَ ثُمَّ خَلَقَ النُّونَ فَدَحَا الأَرْضَ عَلَیْہَا فَارْتَفَعَ بُخَارُ الْمَائِ فَفَتَقَ مِنْہُ السَّمَوَاتِ وَاضْطَرَبَ النُّونُ فَمَادَتِ الأَرْضُ فَأُثْبِتَتْ بِالْجِبَالِ وَإِنَّ الْجِبَالَ لَتَفْخَرُ عَلَی الأَرْضِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ [صحیح ]