আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

سیر کا بیان

হাদীস নং: ১৭৭০৭
سیر کا بیان
عالم کی پیدائش کا بیان (خلق کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ )
(١٧٧٠١) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا تھا کہ آپ کے پاس بنی تمیم کے لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا : اے بنو تمیم ! خوش ہو جاؤ، انھوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت تو سنا دی۔ کچھ عطاء بھی کریں۔ حضرت عمران بن حصین نے کہا کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اہل یمن میں سے کچھ لوگ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اہل یمن ! تم بشارت قبول کرو، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انھوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کی بشارتِ (اسلام) کو قبول کیا اور ہم آپ کے پاس دین سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم آپ سے کائنات کی ابتداء کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہاں پر پہلے کیا تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہلے اللہ عزوجل ہی کی ذات تھی اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں ایک آدمی نے آ کر کہا کہ اے عمران بن حصین ! اپنی سواری کا خیال کرو۔ وہ بھاگ گئی ہے۔ حضرت عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ میں اونٹنی کی تلاش میں نکلا اور وہ ریتلا علاقہ پار کرچکی تھی۔ پھر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں اونٹنی کے پیچھے نہ جاتا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں سنتا رہتا۔
(١٧٧٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ : إِنِّی لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ جَائَ ہُ قَوْمٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فَقَالَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَی یَابَنِی تَمِیمٍ ۔ قَالُوا قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ قَالَ : فَدَخَلَ عَلَیْہِ أُنَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ فَقَالَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَی یَا أَہْلَ الْیَمَنِ إِذْ لَمْ یَقْبَلْہَا بَنُو تَمِیمٍ ۔ قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ جِئْنَا لِنَتَفَقَّہَ فِی الدِّینِ وَنَسْأَلَکَ عَنْ أَوَّلِ ہَذَا الأَمْرِ مَا کَانَ قَالَ : کَانَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ یَکُنْ شَیْئٌ قَبْلَہُ وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَائِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَکَتَبَ فِی الذِّکْرِ کُلَّ شَیْء ۔ قَالَ : وَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ رَاحِلَتُکَ أَدْرِکْ نَاقَتَکَ فَقَدْ ذَہَبَتْ ۔ فَانْطَلَقْتُ فِی طَلَبِہَا فَإِذَا السَّرَابُ یَنْقَطِعُ دُونَہَا وَایْمُ اللَّہِ لَوَدِدْتُ أَنَّہَا ذَہَبَتْ وَأَنِّی لَمْ أَقُمْ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣١٩٠، ٣١٩٢، ٤٣٦٠، ٤٣٨٦]
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
সুনানে বাইহাকী (উর্দু) - হাদীস নং ১৭৭০৭ | মুসলিম বাংলা