কানযুল উম্মাল (উর্দু)
طلاق کا بیان
হাদীস নং: ২৭৯৬৮
طلاق کا بیان
فصل عدت حلالہ ۔۔۔ استبراء اور رجعت کے بیان میں عدت :
27968 ۔۔۔ اسحاق کہتے ہیں میں اسود بن یزید کے ساتھ جامع مسجد میں تھا ہمارے ساتھ شعبی بھی تھے شعبی نے فاطمہ بنت قیس (رض) کی حدیث سنائی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے سکنی اور نفقہ کا فیصلہ نہیں کیا فاطمہ بنت قیس (رض) سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئی ، آپ (رض) نے فرمایا : ہم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑ سکتے ہم نہیں جانتے اس نے اصل بات یاد رکھی یا بھول گئی مطلقہ ثلاث کے لیے سکنی بھی ہے اور نفقہ بھی ۔ (رواہ عبدالرزاق والدارمی ومسلم وابو داؤد والدارقطنی والبیھقی) ۔ فائدہ : ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فیصلہ کردیا کہ وہ عورت جس تین طلاقیں ہوچکی ہوں اس کے لیے رہائش اور نان نفقہ بذمہ طلاق دہندہ ضروری ہوگا ۔ از مترجم۔
27968- عن إسحاق قال: "كنت في المسجد الجامع مع الأسود بن يزيد ومعنا الشعبي فحدث الشعبي بحديث فاطمة بنت قيس أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يجعل لها سكنى ولا نفقة فقال الأسود: أتت فاطمة بنت قيس عمر ابن الخطاب فقال: ما كنا لندع كتاب ربنا وسنة نبينا لقول امرأة لا ندري أحفظت أم لا، المطلقة ثلاثا لها السكنى والنفقة". "عب والدارمي، م، د، قط، ق".